المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أنس بن مالك القشيري يكنى أبا أمية " ويقال أبو مية، كان ينزل البصرة " باب: سیدنا انس بن مالک قشیری رضی اللہ عنہ، کنیت ابواُمیہ، اور کہا جاتا ہے: ابومیہ، بصرہ میں رہائش پذیر تھے
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمَكِّيِّ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالُوا: ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي كَعْبٍ قَالَ: أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: «اجْلِسْ فَأَصِبْ مِنْ طَعَامِنَا هَذَا» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: «اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الصَّوْمِ، إِنَّ اللهَ وَضَعَ شَطْرَ - أَوْ نِصْفَ - الصَّلَاةِ عَنِ الْمُسَافِرِ، وَوَضَعَ الصَّوْمَ - أَوِ الصِّيَامَ - عَنِ الْمُسَافِرِ، وَالْمَرِيضِ، وَالْحَامِلِ» وَاللهِ لَقَدْ قَالَهَا جَمِيعًا، أَوْ إِحْدَاهَا، فَلُمْتُ نَفْسِي أَلَّا أَكُونَ أَكَلْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "انس بن مالک قشیری رضی اللہ عنہ (بنو کعب کے ایک فرد) بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے لشکر نے ہم پر چھاپہ مارا، تو میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا جبکہ آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ اور ہمارے اس کھانے میں سے کچھ کھا لو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں روزے سے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، میں تمہیں نماز اور روزے کے بارے میں بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر سے نماز کا آدھا حصہ - یا نصف - معاف کر دیا ہے، اور مسافر، مریض اور حاملہ سے روزہ - یا صیام - معاف کر دیا ہے۔“ اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے یہ سب باتیں کہیں، یا ان میں سے کوئی ایک کہی، پھر میں نے اپنے آپ کو ملامت کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے کھانے میں سے کیوں نہ کھایا۔