المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن حبيب المحاربي قاضي عمر بن عبد العزيز، عن أبي أمامة صدي بن عجلان باب: سلیمان بن حبیب محاربی، عمر بن عبدالعزیز کے قاضی، کی ابواُمامہ صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «سَيَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الرُّومِ أَرْبَعُ هُدَنٍ، تَقُومُ الرَّابِعَةُ عَلَى يَدِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ هِرَقْلَ يَدُومُ سَبْعَ سِنِينَ» . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يُقَالُ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ خِيلَانَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ إِمَامُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «مِنْ وُلْدِ أَرْبَعِينَ سَنَةً كَأَنَّ وَجْهُهُ كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ، فِي خَدِّهِ الْأَيْمَنِ خَالٌ أَسْوَدُ، عَلَيْهِ عَبَاءَتَانِ قَعْوَايَتَانِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، يَمْلِكُ عِشْرِينَ سَنَةً يَسْتَخْرِجُ الْكُنُوزَ، وَيَفْتَحُ مَدَائِنَ الشِّرْكِ»سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے اور روم کے درمیان چار صلح ہوں گی، چوتھی صلح ہرقل کی نسل کے ایک شخص کے ہاتھ پر ہو گی جو سات سال تک قائم رہے گی۔“ اس پر عبدالقیس کے ایک شخص نے، جسے مستورد بن خیلان کہا جاتا تھا، عرض کیا: یا رسول اللہ، اس وقت لوگوں کا امام کون ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس سال کی عمر کا ایک شخص، گویا اس کا چہرہ چمکتا ہوا ستارہ ہو گا، اس کے دائیں رخسار پر ایک سیاہ تِل ہو گا، اس نے دو موٹے کمبل نما چادریں پہنی ہوں گی، گویا وہ بنی اسرائیل کے مردوں میں سے ہے، بیس سال حکومت کرے گا، خزانے نکالے گا اور شرک کے شہر فتح کرے گا۔“