المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن حبيب المحاربي قاضي عمر بن عبد العزيز، عن أبي أمامة صدي بن عجلان باب: سلیمان بن حبیب محاربی، عمر بن عبدالعزیز کے قاضی، کی ابواُمامہ صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، قَالَا: سَمِعْنَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «إِنَّهَا سَتَخْرُجُ رَايَاتٌ مِنَ الْمَشْرِقِ لِبَنِي الْعَبَّاسِ، أَوَّلُهَا مَثْبُورٌ، وَآخِرُهَا مَثْبُورٌ، لَا تَنْصُرُوهُمْ لَا نَصَرَهُمُ اللهُ مَنْ مَشَى تَحْتَ رَايَةٍ مِنْ رَايَاتِهِمْ أَدْخَلَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَهَنَّمَ، أَلَا أَنَّهُمْ شِرَارُ خَلْقِ اللهُ، وَأَتْبَاعُهُمْ شِرَارُ خَلْقِ اللهِ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ مِنِّي أَلَا إِنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ، وَهُمْ مِنِّي بَرَاءٌ عَلَامَتُهُمْ، يُطِيلُونَ الشُّعُورَ، وَيَلْبَسُونَ السَّوَادَ، فَلَا تُجَالِسُوهُمْ فِي الْمَلَأِ، وَلَا تُبَايِعُوهُمْ فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا تُهْدُوهُمُ الطَّرِيقَ، وَلَا تُسْقُوهُمُ الْمَاءَ يَتَأَذَّى بِتَكْبِيرِهِمْ أَهْلُ السَّمَاءِ»سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب مشرق کی جانب سے بنو عباس کے کچھ جھنڈے نکلیں گے، ان کا پہلا حصہ بھی ملعون اور آخری حصہ بھی ملعون ہو گا، ان کی مدد نہ کرنا، اللہ انہیں مدد نہ دے، جو شخص ان کے کسی جھنڈے تلے چلے، اللہ اسے قیامت کے دن جہنم میں داخل کرے گا۔ سن لو! وہ اللہ کی بدترین مخلوق ہیں، اور ان کے پیروکار بھی اللہ کی بدترین مخلوق ہیں، وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ مجھ سے ہیں، سن لو! میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ بال لمبے رکھیں گے اور سیاہ لباس پہنیں گے، تو ان کے ساتھ مجلسوں میں نہ بیٹھنا، بازاروں میں ان سے خرید و فروخت نہ کرنا، انہیں راستہ نہ بتانا، اور انہیں پانی نہ پلانا، آسمان والے ان کی تکبیر کی آواز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں۔“