المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن حبيب المحاربي قاضي عمر بن عبد العزيز، عن أبي أمامة صدي بن عجلان باب: سلیمان بن حبیب محاربی، عمر بن عبدالعزیز کے قاضی، کی ابواُمامہ صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 7465
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَرِّحٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُعَلِّلُ بْنُ نُفَيْلٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَّاشِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ، فَإِذَا انْصَرَفَ الْمُنْصَرِفُ مِنَ الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَقُلْ: اللهُمَّ أْجِرْنِي مِنَ النَّارِ، وأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، وَزَوِّجْنِي مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، قَالَتِ النَّارُ: يَا وَيْحَ هَذَا، أَعَجَزَ أَنْ يَسْتَجِيرَ اللهَ مِنْ جَهَنَّمَ؟ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: يَا وَيْحَ هَذَا، أَعَجَزَ أَنْ يَسْأَلَ اللهُ الْجَنَّةَ؟ وَقَالَتِ الْحُورُ الْعَيْنِ: يَا وَيْحَ هَذَا أَعَجَزَ أَنْ يَسْأَلَ اللهَ أَنْ يُزَوِّجَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ؟ "ترجمہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی کی جاتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے، تو جو شخص نماز سے فارغ ہو کر یہ نہ کہے: اے اللہ! مجھے جہنم سے پناہ دے، اور مجھے جنت میں داخل فرما، اور مجھے حورِ عین سے نکاح کروا دے، تو آگ کہتی ہے: افسوس اس پر، کیا وہ اللہ سے جہنم سے پناہ مانگنے سے بھی عاجز آ گیا؟ اور جنت کہتی ہے: افسوس اس پر، کیا وہ اللہ سے جنت مانگنے سے بھی عاجز آ گیا؟ اور حورِ عین کہتی ہیں: افسوس اس پر، کیا وہ اللہ سے یہ مانگنے سے بھی عاجز آ گیا کہ وہ اس کا نکاح ہم سے کروا دے؟“