المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن حبيب المحاربي قاضي عمر بن عبد العزيز، عن أبي أمامة صدي بن عجلان باب: سلیمان بن حبیب محاربی، عمر بن عبدالعزیز کے قاضی، کی ابواُمامہ صدی بن عجلان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا كُلْثُومُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ غَازِيًا، فَلَمَّا مَرَرْتُ بِحِمْصَ، خَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ لِأَشْتَرِيَ مَا لَا غِنًى لِلْمُسَافِرِ عَنْهُ، فَلَمَّا نَظَرْتُ إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قُلْتُ: لَوْ أَنِّي دَخَلْتُ فَرَكَعْتُ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا دَخَلْتُ نَظَرْتُ إِلَى ثَابِتِ بْنِ مَعْبَدٍ، وَابْنِ أَبِي زَكَرِيَّا، وَمَكْحُولٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَتَيْتُهُمْ فَجَلَسَتُ إِلَيْهِمْ، فَتَحَدَّثُوا شَيْئًا، ثُمَّ قَالُوا: إِنَّا نُرِيدُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، فَقَامُوا وَقُمْتُ مَعَهُمْ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَإِذَا شَيْخٌ قَدْ رَقَّ وَكَبِرَ، وَإِذَا عَقْلُهُ وَمِنْطَقُةُ أَفْضَلُ مِمَّا نَرَى مِنْ مَنْظَرِهِ، وَكَانَ أَوَّلُ مَا حَدَّثَنَا أَنْ قَالَ: إِنَّ مَجْلِسَكُمْ هَذَا مِنْ بَلَاغِ اللهِ، إِيَّاكُمْ وَحُجَّتِهِ عَلَيْكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، وَإِنَّ أَصْحَابَهُ قَدْ بَلَغُوا مَا سَمِعُوا، فَبَلَّغُوا مَا تَسْمَعُونَ: " ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: رَجُلٌ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، وَرَجُلٌ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلَامٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ فِي جَهَنَّمَ جِسْرًا لَهُ سَبْعُ قَنَاطِرَ عَلَى أَوْسَطِهِنَّ الْقَضَاءُ، فَيُجَاءَ بِالْعَبْدِ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى الْقَنْطَرَةِ الْوُسْطَى قِيلَ لَهُ: مَاذَا عَلَيْكَ مِنَ الدَّيْنِ؟ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَلَا يَكْتُمُونَ اللهَ حَدِيثًا} [النساء: ٤٢] ، قَالَ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا، فَيُقَالُ لَهُ: اقْضِ دَيْنَكَ، فَيَقُولُ: مَا لِي شَيْءٌ، وَمَا أَدْرِي مَا أَقْضِي؟ فَيُقَالُ: خُذُوا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَمَا زَالَ يُؤْخَذُ مِنْ حَسَنَاتِهِ حَتَّى مَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ حَتَّى إِذَا أُفْنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قِيلَ قَدْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ، يُقَالُ: خُذُوا مِنْ سَيِّئَاتِ مَنْ يَطْلُبُهُ، فَرَكِبُوا عَلَيْهِ، فَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا يَجِيئُونَ بِأَمْثَالِ الْجِبَالِ مِنَ الْحَسَنَاتِ، فَمَا يَزَالُ يُؤْخَذُ لِمَنْ يَطْلُبُهُمْ حَتَّى مَا تَبْقَى لَهُمْ حَسَنَةٌ "سلیمان بن حبیب محاربی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں جہاد کے لیے نکلا، جب حمص سے گزرا تو بازار گیا تاکہ وہ چیزیں خریدوں جن سے مسافر بے نیاز نہیں ہو سکتا، جب میں نے مسجد کے دروازے کی طرف دیکھا تو دل میں خیال آیا کہ کاش میں اندر جا کر دو رکعت پڑھ لوں۔ جب میں اندر گیا تو میں نے ثابت بن معبد، ابن ابی زکریا اور مکحول کو دمشق کے چند لوگوں کے ساتھ دیکھا، جب میں نے انہیں دیکھا تو ان کے پاس گیا اور بیٹھ گیا، انہوں نے کچھ باتیں کیں پھر کہا: ہم سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس جانا چاہتے ہیں، تو وہ اٹھے اور میں بھی ان کے ساتھ اٹھا، ہم ان کے پاس گئے تو دیکھا کہ ایک بزرگ ہیں جو کمزور اور بوڑھے ہو چکے تھے، لیکن ان کی عقل اور گفتگو ان کی ظاہری حالت سے کہیں بہتر تھی۔ انہوں نے سب سے پہلے جو بات ہم سے بیان کی وہ یہ تھی: تمہاری یہ مجلس اللہ کی طرف سے پہنچائی گئی چیز میں سے ہے، تم پر اللہ کی حجت قائم ہو چکی ہے، بےشک رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ آپ ﷺ کو پہنچانے کے لیے بھیجا گیا وہ پہنچا دیا، اور آپ ﷺ کے صحابہ نے جو کچھ سنا وہ آگے پہنچا دیا، تو تم بھی وہ آگے پہنچاؤ جو تم سن رہے ہو: ”تین طرح کے لوگ ہیں جن میں سے ہر ایک اللہ کے ذمے ہے: ایک وہ شخص جو اللہ کی راہ میں نکلے، وہ اللہ کے ذمے ہے یہاں تک کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے، یا اسے جو اجر یا غنیمت ملی وہی لے کر لوٹے۔ اور ایک وہ شخص جو سلام کہتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہو۔“ پھر فرمایا: ”جہنم میں ایک پل ہے جس پر سات محرابیں ہیں، ان کے درمیانی محراب پر حساب و فیصلہ ہو گا، تو بندے کو لایا جائے گا، جب وہ درمیانی محراب تک پہنچے گا تو اس سے کہا جائے گا: تجھ پر کس کا قرض ہے؟“ اور آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے“ [سورۃ النساء: 42]۔ ”تو وہ کہے گا: اے میرے رب، مجھ پر فلاں فلاں کا حق ہے، اس سے کہا جائے گا: اپنا قرض ادا کر، وہ کہے گا: میرے پاس تو کچھ نہیں، میں کیسے ادا کروں؟ تو کہا جائے گا: اس کی نیکیوں میں سے لے لو، چنانچہ اس کی نیکیاں لی جاتی رہیں گی یہاں تک کہ اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہ رہے گی، جب اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو کہا جائے گا: اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں، اب اس سے مطالبہ کرنے والے کے گناہوں میں سے لے کر اس پر ڈال دو، مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگ پہاڑوں جیسی نیکیاں لے کر آئیں گے، لیکن ان سے مطالبہ کرنے والوں کے لیے ان کی نیکیاں لی جاتی رہیں گی یہاں تک کہ ان کے پاس بھی کوئی نیکی باقی نہ رہے گی۔“