المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند صفوان بن أمية باب: سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 7305
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ لِصًّا أَتَى أَبَاهُ وَهُوَ نَائِمٌ، فَاسْتَلَّ إِزَارَهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ، فَاسْتَيْقَظَ فَأَخَذَهُ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُقْطَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَحْلَلْتُهُ لَهُ قَالَ: «فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ، إِنَّ الْإِمَامَ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللهِ أَقَامَهُ»ترجمہ
یزید بن صفوان بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک چور ان کے والد (سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ) کے پاس آیا جبکہ وہ سو رہے تھے، اور ان کے سر کے نیچے سے چادر کھینچ لی، وہ بیدار ہوئے تو اسے پکڑ لیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئے، آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں نے یہ اسے معاف کر دی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تم نے مجھے اس کے لانے سے پہلے کیوں نہ کیا؟ حاکم کے سامنے جب اللہ کی حدود میں سے کوئی حد پہنچ جائے تو وہ اسے قائم کر دیتا ہے۔“