المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند صفوان بن أمية باب: سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 7304
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَيَّ، فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي فَأُخِذَ الرَّجُلُ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا؟ هِي لَهُ، قَالَ: «فَهَلَّا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ؟»ترجمہ
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں اپنی ایک چادر پر سو رہا تھا جس کی قیمت تیس درہم تھی، تو ایک آدمی میرے پاس آیا، اور وہ مجھ سے چھین لے گیا، اس آدمی کو پکڑ لیا گیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا آپ تیس درہم کی خاطر اس کا ہاتھ کاٹیں گے؟ وہ اس کی ہے (میں نے اسے دے دی)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تم نے مجھے اس کے لانے سے پہلے کیوں نہ کیا؟“