حدیث نمبر: 7303
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ لِصًّا أَتَاهُ وَهُوَ نَائِمٌ، فَاسْتَلَّ إِزَارَهُ مِنْ تَحْتِهِ، فَاسْتَيْقَظَ فَأَخَذَهُ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَحْلَلْتُهُ. قَالَ: «هَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ، إِنَّ الْإِمَامَ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ مِنَ الْحُدُودِ أَقَامَهُ»
ترجمہ

سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک چور ان کے پاس آیا جبکہ وہ سو رہے تھے، اس نے ان کی چادر ان کے نیچے سے کھینچ لی، وہ بیدار ہوئے تو اسے پکڑ لیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئے، آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور اسے کاٹ دیا گیا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تم نے مجھے اس کے لانے سے پہلے کیوں نہ کیا؟ حاکم کے سامنے جب کوئی حد پہنچ جائے تو وہ اسے قائم کر دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7303
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 49، حدیث 7334