المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن سمرة عن أبيه باب: سلیمان بن سمرہ کی اپنے والد سے روایات
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفُ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنْكُمْ , وَلَا لِشَيْءٍ تُحْدِثُونَهُ، وَلَكِنَّ ذَلِكُمْ مِنْ آيَاتِ اللهِ يَعْبُرُ بِهَا عِبَادَهُ لِيَشْكُرَ مَنْ يَخَافُهُ وَيَذْكُرَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ بَعْضَ آيَاتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللهِ، فَاذْكُرُوهُ وَاخْشَوْهُ» , وَكَانَ صَلَّى لَنَا يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ وَعَظَنَا وَذَكَّرَنَا، ثُمَّ قَالَ: «مَا رَأَيْتُمْ فِي شَيْءٍ فِي الدُّنْيَا لَهُ لَوْنٌ، وَلَا نُبِّئْتُمْ بِهِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا فِي النَّارِ إِلَّا وَقَدْ صُوِّرَ لِي فِي قِبَلِ هَذَا الْجِدَارِ مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمْ صَلَاتِي هَذِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ مَنْظُورًا فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ»اسی سند سے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”سورج اور چاند تم میں سے کسی کی موت کی وجہ سے گرہن زدہ نہیں ہوتے، اور نہ کسی حادثے کی وجہ سے جو تم پیدا کرو، بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے بندوں کو عبرت دلاتا ہے تاکہ جو اس سے ڈرتا اور اسے یاد کرتا ہے وہ شکر ادا کرے، پس جب تم اللہ عزوجل کی کوئی نشانی دیکھو تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اسے یاد کرو اور اس سے ڈرو۔“ اور آپ ﷺ نے ہمیں سورج گرہن کے دن نماز پڑھائی، پھر ہمیں نصیحت اور یاددہانی کی، پھر فرمایا: ”دنیا میں جس چیز کا بھی تم نے کوئی رنگ دیکھا ہے، اور جنت و دوزخ کی جس چیز کے بارے میں بھی تمہیں بتایا گیا ہے، وہ سب اس وقت سے میرے سامنے اس دیوار کی سمت میں دکھائی گئی جب سے میں نے تمہیں یہ نماز پڑھائی ہے، چنانچہ میں نے اسے مسجد کی دیوار میں دکھائی گئی صورت میں دیکھا۔“