المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن سمرة عن أبيه باب: سلیمان بن سمرہ کی اپنے والد سے روایات
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَسْتَفْتِيهِ فِي الْكَلَالَةِ: أَنْبِئْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، أَكَلَالَةٌ الرَّجُلُ يُرِيدُ إِخُوَةً مِنْ أُمِّهِ وَأَبِيهِ؟ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَيْهِ آيَةَ الْكَلَالَةِ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ، ثُمَّ عَادَ الرَّجُلُ يَسْأَلُهُ، فَكُلَّمَا سَأَلَهُ قَرَأَهَا، حَتَّى أَكْثَرَ وَصَخِبَ الرَّجُلُ، فَاشْتَدَّ صَخَبُهُ مِنْ حِرْصٍ عَلَى أَنْ يُبَيِّنَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي وَاللهِ لَا أَزِيدُكَ عَلَى مَا أُعْطِيتُ، إِنِّي وَاللهِ لَا أَزِيدُكَ عَلَى مَا أُعْطِيتُ» حَتَّى أَزَادَ عَلَيْهِ، فَجَلَسَ حِينَئِذٍ الرَّجُلُ، وَسَكَتَسیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس کلالہ کے بارے میں فتویٰ پوچھنے آیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے، کیا کسی آدمی کے کلالہ ہونے سے مراد اس کے ماں اور باپ دونوں کی طرف سے بھائی ہیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے اسے کچھ نہ فرمایا، سوائے اس کے کہ آپ ﷺ نے اس پر سورۃ النساء میں کلالہ کی آیت پڑھ دی۔ پھر وہ آدمی دوبارہ سوال کرنے لگا، تو جب بھی وہ سوال کرتا آپ ﷺ وہی آیت پڑھ دیتے، یہاں تک کہ اس نے بہت اصرار کیا اور شور مچانے لگا، اور نبی کریم ﷺ سے وضاحت حاصل کرنے کی خواہش میں اس کا شور بہت بڑھ گیا، تو آپ ﷺ نے اس پر وہی آیت پڑھی، پھر نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اللہ کی قسم، میں تمہیں اس سے زیادہ نہیں دوں گا جو مجھے دیا گیا ہے، اللہ کی قسم، میں تمہیں اس سے زیادہ نہیں دوں گا جو مجھے دیا گیا ہے“ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے یہ بات دہرائی، تو وہ شخص اس پر بیٹھ گیا اور خاموش ہو گیا۔