حدیث نمبر: 7026
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ سَمُرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى رَبَّ النَّخْلِ أَنْ يَدِينَ فِي ثَمَرِ نَخْلِهِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْ ثَمَرَتِهَا، مَخَافَةَ أَنْ يَدِينَ بِدَيْنٍ كَثِيرٍ , تَفْسَدُ الثَّمَرَةُ , فَلَا تُوَفِّي عَنْهُ، وَكَانَ يَنْهَى رَبَّ الزَّرْعِ أَنْ يَدِينَ فِي زَرْعِهِ حَتَّى يَبْلُغَ الْحَصْدَ، وَكَانَ يَنْهَى رَبَّ الذَّهَبِ إِذَا بَاعَهَا بِطَعَامٍ فِي الثَّمَرِ أَنَّ يَبِيعَ الطَّعَامَ بِالذَّهَبِ حَتَّى يُكَالَ الطَّعَامُ، فَيَقْبِضَهُ مَخَافَةَ الرِّبَا»
ترجمہ

اسی سند سے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھجور کے باغ والے کو منع فرماتے تھے کہ وہ اپنے پھل کے عوض قرض لے یہاں تک کہ اس کے پھل سے کھایا جائے، اس خدشے سے کہ وہ زیادہ قرض لے لے اور پھل خراب ہو جائے تو وہ اسے پورا نہ کر سکے، اور کھیتی والے کو منع فرماتے تھے کہ وہ اپنی کھیتی کے عوض قرض لے یہاں تک کہ کٹائی کا وقت آ جائے، اور سونے والے کو منع فرماتے تھے کہ اگر وہ اسے قرض کے کھانے کے بدلے پھل میں بیچے تو وہ کھانا سونے کے بدلے نہ بیچے یہاں تک کہ کھانا ناپ لیا جائے اور وہ اسے قبضے میں لے لے، سود کے خدشے سے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 7026
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 260، حدیث 7056