المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن سمرة عن أبيه باب: سلیمان بن سمرہ کی اپنے والد سے روایات
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنَ الْأُمَمِ أُمَّةٌ ضُرِبَ لَهُمْ مَثَلٌ كَمَثَلِ أُجَرَاءَ ائْتَجَرَهُمْ رَجُلٌ , يَعْمَلُونَ لَهُ يَوْمًا كُلَّهُ، وَجَعَلَ لَهُمْ قِيرَاطًا، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ سَئِمُوا، فَقَالُوا لِلرَّجُلِ: حَاسِبْنَا , فَحَاسَبَهُمْ، فَكَانَ لَهُمْ نِصْفُ قِيرَاطٍ، فَقَالَ: مَنْ يَكْتَلْ لِي عَمَلِي إِلَى اللَّيْلِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، فَبَايَعَهُ قَوْمٌ آخَرُونَ، فَعَمِلُوا , حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ سَئِمُوا، فَقَالُوا: حَاسِبْنَا , فَحَاسَبَهُمْ، فَكَانَ لَهُمْ نِصْفُ قِيرَاطٍ، وَأَحَبَّ الرَّجُلُ أَنْ يُقْضَى لَهُ عَمَلُهُ قَبْلَ اللَّيْلِ، فَائْتَجَرَ قَوْمًا عَلَى أَنْ يُكْمِلُوا مَا غَبَرَ مِنْ عَمَلِهِ إِلَى اللَّيْلِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ " , فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ شَاءَ اللهُ , أَنْ تَكُونُوا أَنْتُمْ أَصْحَابَ الْقِيرَاطَيْنِ»سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امتوں میں سے ایک امت ہے جس کی مثال کچھ مزدوروں جیسی بیان کی گئی جنہیں ایک آدمی نے اجرت پر لگایا، وہ اس کے لیے پورا دن کام کرتے، اور اس نے ان کے لیے ایک قیراط مقرر کیا۔ چنانچہ انہوں نے کام کیا یہاں تک کہ جب دن آدھا ہو گیا تو وہ اکتا گئے، تو انہوں نے اس آدمی سے کہا: ہمارا حساب کر دو۔ تو اس نے ان کا حساب کیا، تو انہیں آدھا قیراط ملا۔ تو اس نے کہا: کون میرا کام رات تک ایک ایک قیراط پر پورا کرے؟ تو کچھ اور لوگوں نے اس سے معاہدہ کیا اور کام کیا، یہاں تک کہ جب عصر کی نماز کا وقت قریب ہوا تو وہ اکتا گئے، تو انہوں نے کہا: ہمارا حساب کر دو۔ تو اس نے ان کا حساب کیا، تو انہیں آدھا قیراط ملا۔ اور اس شخص نے چاہا کہ رات سے پہلے اس کا کام مکمل کروا لیا جائے، چنانچہ اس نے کچھ لوگوں کو دو قیراط کی اجرت پر اس بات پر لگا لیا کہ وہ رات تک باقی ماندہ کام مکمل کر دیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”مجھے امید ہے، اگر اللہ نے چاہا، کہ تم ہی دو قیراط والے ہو۔“