المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن سمرة عن أبيه باب: سلیمان بن سمرہ کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 7023
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ يَتَبَاهَوْنَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَصْحَابًا مِنْ أُمَّتِهِ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ يَوْمَئِذٍ أَكْثَرَهُمْ كُلِّهِمْ وَارِدَةً، فَإِنَّهُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ قَائِمٌ عَلَى حَوْضٍ مَلْآنَ , مَعَهُ عَصًا , يَدْعُو مَنْ عَرَفَ مِنْ أُمَّتِهِ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ سِيمَاءٌ يَعْرِفُهُمْ بِهَا نَبِيُّهُمْ»ترجمہ
اسی سند سے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء اس بات پر فخر کریں گے کہ ان میں سے کس کے ساتھی اس کی امت میں سے زیادہ ہیں، تو مجھے امید ہے کہ اس دن میرے (حوض پر) آنے والے ان سب سے زیادہ ہوں، کیونکہ ان میں سے ہر نبی اس دن ایک بھرے ہوئے حوض پر کھڑا ہو گا، اس کے ہاتھ میں ایک لاٹھی ہو گی، وہ اپنی امت میں سے جسے پہچانے گا اسے بلائے گا، اور ہر امت کی ایک نشانی ہو گی جس سے اس کا نبی انہیں پہچان لے گا۔“