المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن سمرة عن أبيه باب: سلیمان بن سمرہ کی اپنے والد سے روایات
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ يَسْتَفْتِيهِ فِي الَّذِي يَحْرُمُ عَلَيْهِ , وَالَّذِي يَحِلُّ لَهُ، وَفِي نُسُكِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَفِي عَنَزِهِ وَفَرْعِهِ مِنْ نَتَجِ إِبِلِهِ وَغَنَمِهِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَحِلُّ لَكَ الطَّيِّبَاتُ، وَيَحْرُمُ عَلَيْكَ الْخَبَائِثُ، إِلَّا أَنْ تَفْتَقِرَ إِلَى طَعَامٍ لَا يَحِلُّ لَكَ فَتَأْكُلَ مِنْهُ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ عَنْهُ» وَأَنَّهُ سَأَلَ رَجُلٌ حِينَئِذٍ، فَقَالَ: مَا فَقْرِي , وَمَا الَّذِي آكُلُ مِنْ ذَلِكَ إِذَا بَلَغْتُهُ، وَمَا غِنَايَ الَّذِي يُغْنِينِي عَنْهُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كُنْتَ تَرْجُو نَتَجًا فَتَبْلُغُ بِلُحُومِ مَاشِيَتِكَ إِلَى نَتَجِكَ، أَوْ كُنْتَ تَرْجُو غَيْثًا تَظُنُّهُ مُدْرِكَكَ، فَتَبْلُغُ بِلُحُومِ مَاشِيَتِكَ، أَوْ كُنْتَ تَرْجُو مِيرَةً تَنَالُهَا، فَتَبْلُغُ إِلَيْهَا مِنْ لُحُومِ مَاشِيَتِكَ، وَإِنْ كُنْتَ لَا تَرْجُو مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ مِمَّا بَدَا لَكَ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ عَنْهُ» فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: مَا غِنَايَ الَّذِي أَدَعُهُ إِذَا وَجَدْتُهُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَوَيْتَ أَهْلَكَ غَبُوقًا مِنَ اللَّبَنِ، فَاجْتَنِبْ مَا حُرِّمَ عَلَيْكَ مِنَ الطَّعَامِ، أَمَّا مَالُكَ فَإِنَّهُ مَيْسُورٌ لَكَ كُلُّهُ , لَيْسَ فِيهِ حَرَامٌ غَيْرَ أَنَّ فِي نَتَجِكَ مِنْ إِبِلِكَ فَرْعًا وَفِي نَتَجِكَ مِنْ غَنَمِكَ فَرْعًا، تَغْذُوهُ مَاشِيَتَكَ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ، ثُمَّ إِنْ شِئْتَ أَطْعَمْتَهُ أَهْلَكَ، وَإِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ» وَأَمَرَهُ لِيَعْتِرَ مِنَ الْغَنَمِ مِنْ كُلِّ سَائِمَةٍ عَتِيرَةًایک اعرابی نے آپ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں پوچھا جو اس پر حرام ہے اور جو اس کے لیے حلال ہے، اور اپنی قربانی، مویشیوں، بکری اور اپنے اونٹوں و بکریوں کی پہلی پیدائش (فرع) کے بارے میں پوچھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال ہیں اور ناپاک چیزیں حرام ہیں، سوائے اس کے کہ تم کسی ایسے کھانے کے محتاج ہو جاؤ جو تمہارے لیے حلال نہیں، تو اس میں سے اتنا کھا لو جتنے سے تم بے نیاز ہو جاؤ۔“ اس وقت اس شخص نے پوچھا: میری محتاجی کیا ہے، اور جب میں اس تک پہنچوں تو اس میں سے کیا کھاؤں، اور میری وہ بے نیازی کیا ہے جو مجھے اس سے بے نیاز کر دے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اگر تمہیں نئی پیدائش کی امید ہو تو تم اپنے مویشیوں کے گوشت سے اس نئی پیدائش تک پہنچ جاؤ، یا تمہیں بارش کی امید ہو جو تمہیں ملنے والی ہے تو تم اپنے مویشیوں کے گوشت سے اس تک پہنچ جاؤ، یا تمہیں کوئی رسد ملنے کی امید ہو تو تم اپنے مویشیوں کے گوشت سے اس تک پہنچ جاؤ، اور اگر تمہیں ان میں سے کسی چیز کی امید نہ ہو تو اپنے گھر والوں کو اس میں سے کھلاؤ جو تمہیں میسر آئے یہاں تک کہ تم بے نیاز ہو جاؤ۔“ اس اعرابی نے پوچھا: میری وہ بے نیازی کیا ہے جس کے بعد میں اسے چھوڑ دوں اگر مجھے وہ رزق مل جائے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”جب تم اپنے گھر والوں کو شام کا دودھ پلا دو تو پھر اس کھانے سے بچو جو تم پر حرام ہے، رہا تمہارا مال تو وہ سارا تمہارے لیے آسان (حلال) ہے، اس میں کوئی حرام چیز نہیں، سوائے اس کے کہ تمہارے اونٹوں کی نئی پیدائش میں سے ایک ’فرع‘ اور تمہاری بکریوں کی نئی پیدائش میں سے ایک ’فرع‘ ہے، جسے تمہارے مویشی پالتے رہیں یہاں تک کہ وہ بڑا ہو جائے، پھر اگر چاہو تو اپنے گھر والوں کو کھلا دو، اور اگر چاہو تو اس کا گوشت صدقہ کر دو۔“ اور آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ ہر چرنے والے مویشی میں سے بکریوں میں سے ایک ’عتیرہ‘ (رجب کے مہینے کی قربانی) ذبح کرے۔