حدیث نمبر: 6655
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السَّيْنَائِيُّ، عَنِ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ إِذْ جَاءَهُ الزُّبَيْرُ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَفِي وَجْهِهِ أَثَرُ السُّجُودِ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قِيلَ: الزُّبَيْرُ قَالَ: «لَقَدْ أَفْسَدَ هَذَا وَجْهَهُ، أَمَا وَاللهِ، مَا هِيَ السِّيمَاءُ الَّتِي سَمَّاهَا اللهُ، وَلَقَدْ صَلَّيْتُ عَلَى وَجْهِي ثَمَانِينَ سَنَةً مَا أَثَّرَ السُّجُودُ بَيْنَ عَيْنَيَّ»
ترجمہ

جعید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ زبیر بن سہیل بن عبدالرحمن بن عوف ان کے پاس آئے، ان کے چہرے پر سجدے کا نشان تھا، جب انہوں نے اسے دیکھا تو پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: زبیر ہے۔ انہوں نے فرمایا: اس نے اپنا چہرہ بگاڑ دیا ہے، سن لو، اللہ کی قسم! یہ وہ نشانی نہیں جسے اللہ نے قرآن میں بیان کیا ہے، میں نے اسّی سال اپنے چہرے پر سجدہ کیا ہے، اس کے باوجود سجدے نے میری دونوں آنکھوں کے درمیان کوئی نشان نہیں چھوڑا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6655
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 158، حدیث 6685