حدیث نمبر: 6654
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتُّوَيْهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أُتِيَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا سَرَقَ جُلَّ بَعِيرٍ أَوْ جُلَّ دَابَّةٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا إِخَالُهُ فَعَلَ» , ثُمَّ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا سَرَقَ , قَالَ: «مَا إِخَالُهُ فَعَلَ» ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ شَهَادَاتٍ , فَقَالَ: «اذْهَبُوا بِهِ، فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ» فَقَطَعُوهُ، ثُمَّ جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «وَيْحَكَ تُبْ إِلَى اللهِ» ، قَالَ: تَبْتُ إِلَى اللهِ قَالَ: «اللهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ»
ترجمہ

(سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے اونٹ یا سواری کی جھول چرائی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں کہ اس نے ایسا کیا ہو۔“ پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے چوری کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں کہ اس نے ایسا کیا ہو۔“ یہاں تک کہ اس نے خود اپنے خلاف بار بار گواہی دے دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، پھر اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! اللہ کی طرف توبہ کر۔“ اس نے کہا: میں اللہ کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6654
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 157، حدیث 6684