المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الجعيد بن عبد الرحمن عن السائب باب: جعید بن عبدالرحمن کی سیدنا سائب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتُّوَيْهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أُتِيَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا سَرَقَ جُلَّ بَعِيرٍ أَوْ جُلَّ دَابَّةٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا إِخَالُهُ فَعَلَ» , ثُمَّ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا سَرَقَ , قَالَ: «مَا إِخَالُهُ فَعَلَ» ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ شَهَادَاتٍ , فَقَالَ: «اذْهَبُوا بِهِ، فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ» فَقَطَعُوهُ، ثُمَّ جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «وَيْحَكَ تُبْ إِلَى اللهِ» ، قَالَ: تَبْتُ إِلَى اللهِ قَالَ: «اللهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ»(سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے اونٹ یا سواری کی جھول چرائی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں کہ اس نے ایسا کیا ہو۔“ پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے چوری کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں کہ اس نے ایسا کیا ہو۔“ یہاں تک کہ اس نے خود اپنے خلاف بار بار گواہی دے دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، پھر اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! اللہ کی طرف توبہ کر۔“ اس نے کہا: میں اللہ کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔“