حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ: " إِنَّمَا يُعَدُّ الشُّرَفُ مَا كَانَ قُبَيْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى عَهْدِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَاتَّصَلَ فِي الْإِسْلَامِ، فَبَيْتُ الْيَمَنِ الَّذِي فِي الصُّفَّةِ عِنْدَ الْعِزِّ فِي كِنْدَةَ: الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَفَارِسُهَا فِي بَنِي زُبَيْدٍ: عَمْرُو بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ، وَشَاعِرُهَا امْرُؤُ الْقَيْسِ مِنْ كِنْدَةَ لَا يُخْتَلَفُ فِي هَذَا "
ترجمہ

ابوخلیفہ کہتے ہیں: محمد بن سلام نے کہا: ”شرف صرف وہی شمار کیا جاتا ہے جو نبی کریم ﷺ سے تھوڑا پہلے شروع ہو کر نبی کریم علیہ السلام کے دور تک پہنچے اور اسلام میں بھی جاری رہے، تو کندہ میں یمن کا وہ گھرانہ جو صُفّہ (بلندی) پر عزت میں تھا وہ اشعث بن قیس (کا گھرانہ) ہے، اور بنو زبید میں ان کا سوار (بہادر) عمرو بن معد یکرب تھا، اور ان کا شاعر امرؤ القیس تھا جو کندہ سے تھا، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 648
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 238، حدیث 652