المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن أخبار الأشعث بن قيس باب: سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے کچھ واقعات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْهِلَالِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: " اسْتَأْذَنَ الْأَشْعَثُ عَلَى مُعَاوِيَةَ رَحِمَهُ اللهُ بِالْكُوفَةِ، فَحَجَبَهُ مَلِيًّا، وَعِنْدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: أَعَنْ هَذَيْنِ حَجَبْتَنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ تَعْلَمُ أَنَّ صَاحِبَهُمَا جَاءَنَا فَمَلَأَنَا كَذِبًا - يَعْنِي عَلِيًّا - فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُرَانِي أَسُبُّكَ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: مَا سُبَّ عَرَبِيُّ خَيْرٌ مِنِّي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: عَبْدُ مَهْرَةَ قَتَلَ جَدَّكَ، وَطَعَنَ فِي اسْتِ أَبِيكَ. فَقَالَ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ لِي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: أَنْتَ بَدَأْتَ "عیسیٰ بن یزید کہتے ہیں: اشعث (رضی اللہ عنہ) نے کوفہ میں معاویہ رحمہ اللہ سے (ملاقات کی) اجازت مانگی، تو انہوں نے انہیں کافی دیر روکے رکھا جبکہ ان کے پاس سیدنا ابن عباس اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما موجود تھے، تو اشعث نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ نے مجھے انہی دونوں کی وجہ سے روکا؟ آپ جانتے ہیں کہ ان کے ساتھی (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے ہمارے پاس آ کر ہمیں جھوٹ سے بھر دیا تھا۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں ابن ابی طالب کے ذریعے تمہیں گالی دوں گا؟ اشعث نے کہا: مجھ سے بہتر کسی عربی کو گالی نہیں دی گئی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: (تمہیں تو) مہرہ کے ایک غلام نے (قتل کر کے) تمہارے دادا کو مارا اور تمہارے باپ کی سرین میں (نیزہ) گھونپا۔ اس پر اشعث نے (معاویہ سے) کہا: کیا آپ سن نہیں رہے وہ مجھ سے کیا کہہ رہے ہیں، اے امیر المومنین؟ معاویہ نے کہا: تم نے ہی شروع کیا تھا۔