حدیث نمبر: 647
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ سِنَانٍ الْجَدَلِيَّةِ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرَدَّهُ قَنْبَرٌ، فَأَدْمَى أَنْفَهُ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَقَالَ: «مَا لَكَ وَمَا لَهُ يَا أَشْعَثُ؟ أَمْ وَاللهِ لَوْ بِعَبْدِ ثَقِيفٍ تَمَرَّسْتَ، اقْشَعَرَّتْ شُعَيْرَاتُ اسْتِكَ» قِيلَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَمَنْ عَبْدُ ثَقِيفٍ؟ قَالَ: «غُلَامٌ يَلِيهِمْ لَا يَبْقَى أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا أَدْخَلَهُمْ ذُلًّا» قِيلَ: كَمْ يَمْلِكُ؟ قَالَ: «عِشْرِينَ إِنْ بَلَغَ»
ترجمہ

ام حکیم بنت عمرو بن سنان جدلیہ بیان کرتی ہیں: اشعث بن قیس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے (ملاقات کی) اجازت مانگی، تو قنبر نے انہیں روک دیا اور ان کی ناک زخمی کر دی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور فرمایا: اے اشعث! تمہیں اور اسے کیا ہوا؟ اللہ کی قسم! اگر تم عبدِ ثقیف سے ٹکراتے تو تمہاری سرین کے بال کھڑے ہو جاتے۔ ان سے پوچھا گیا: اے امیر المومنین! عبدِ ثقیف کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: ایک غلام جو ان پر حکمرانی کرے گا، عرب کا کوئی گھرانہ نہیں بچے گا مگر وہ انہیں ذلت میں داخل کر دے گا۔ پوچھا گیا: وہ کتنا (عرصہ) حکومت کرے گا؟ انہوں نے فرمایا: اگر پورا کرے تو بیس (سال)۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 647
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 237، حدیث 651