المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند سليمان بن صرد باب: سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 6457
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ قَرَنٌ، فَأَخَذَهَا بَعْضُ الْقَوْمِ، فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: فَأَيْنَ الْقَرَنُ؟ فَكَأَنَّ بَعْضَ الْقَوْمِ ضَحِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُرَوِّعَنَّ مُسْلِمًا»ترجمہ
(سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:) …تو کسی نے اس کا ترکش لے لیا، جب نبی کریم ﷺ نے سلام پھیرا تو اس اعرابی نے کہا: میرا ترکش کہاں ہے؟ تو گویا کچھ لوگ ہنس پڑے، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ کسی مسلمان کو خوفزدہ نہ کرے۔“