المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سواد بن عمرو الأنصاري باب: سیدنا سواد بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 6447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، وَالْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ سَوَادِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي رَجُلٌ حُبِّبَ إِلَيَّ الْجَمَالُ، وَأُعْطِيتُ مِنْهُ مَا تَرَى، فَمَا أُحِبُّ أَنْ يَفُوقَنِي أَحَدٌ فِي شِسْعِ نَعْلِي - أَوْ قَالَ: شِرَاكِ نَعْلِي - أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ؟ قَالَ: «لَا» , قُلْتُ: فَمَا الْكِبْرُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ»ترجمہ
(سیدنا سواد بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خوبصورتی پسند دلائی گئی ہے اور مجھے اس میں سے وہ ملا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں، تو مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی مجھ سے میرے جوتے کے تسمے میں بھی آگے نکل جائے - یا فرمایا: میرے جوتے کے فیتے میں - تو کیا یہ تکبر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: پھر تکبر کیا ہے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حق کو حقیر جاننا اور لوگوں کو کمتر سمجھنا۔“