حدیث نمبر: 6422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ: كُنَّا فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ لَهُ، فَقَالَتْ لِرَجُلٍ شَيْئًا , مَا أَدْرِي مَا هُوَ فَلَطَمَهَا، فَرَأَى ذَلِكَ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ، فَقَالَ: «لَطَمْتَ وَجْهَهَا لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَلَطَمَهُ رَجُلٌ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَعْتِقَهُ»
ترجمہ

ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے کہ ان کی ایک باندی باہر نکلی اور اس نے کسی آدمی سے کچھ کہا، مجھے معلوم نہیں کیا کہا، تو اس نے اسے تھپڑ مار دیا۔ سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو فرمایا: تم نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا! میں نے خود کو دیکھا کہ میں سات بھائیوں میں ساتواں تھا اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، تو ایک آدمی نے اسے تھپڑ مار دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6422
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 86، حدیث 6452