حدیث نمبر: 6421
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ: كُنَّا نُزُولًا فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، فَبَيْنَا شَيْخٌ فِيهِ حِدَّةٌ وَجَهْلٌ، وَمَعَهُ جَارِيَةٌ، فَلَطَمَ وَجْهَهَا، فَمَا رَأَيْتُ سُوَيْدًا أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ، ثُمَّ قَالَ: «أَعَجَزَ عَلَيْكَ إِلَّا حُرُّ وَجْهِهَا؟ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ وَلَدِ مُقَرِّنٍ، وَمَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا خَادِمٌ، فَلَطَمَ أَصْغَرُنَا وَجْهَهَا، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِهَا»
ترجمہ

ایک راوی بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر میں مہمان تھے، اتنے میں ایک بزرگ آدمی، جس میں تیزی اور جہالت تھی، اپنی ایک باندی کے ساتھ تھا، اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔ میں نے سوید رضی اللہ عنہ کو اس دن سے زیادہ کبھی غصے میں نہیں دیکھا، پھر انہوں نے فرمایا: کیا تجھے اس کے چہرے کی نازک جگہ کے سوا کچھ نہ ملا؟ میں نے خود کو دیکھا کہ میں بنو مقرن کے سات بھائیوں میں ساتواں تھا، اور ہمارا صرف ایک ہی خادم تھا، تو ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسے آزاد کرنے کا حکم دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6421
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 86، حدیث 6451