المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سويد بن مقرن المزني باب: سیدنا سوید بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 6423
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: شُعْبَةُ، فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: وَرَأَى رَجُلًا لَطَمَ غُلَامًا لَهُ، فَقَالَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا سَابِعُ سَبْعَةِ إِخْوَةٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَلَطَمَهُ أَحَدُنَا، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَعْتِقَهُ»ترجمہ
شعبہ بیان کرتے ہیں: محمد بن منکدر نے مجھ سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: شعبہ۔ تو انہوں نے فرمایا: مجھے ابوشعبہ نے سیدنا سوید بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ایک آدمی کو اپنے غلام کے منہ پر تھپڑ مارتے دیکھا تو فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ چہرے کی بے حرمتی حرام ہے؟ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سات بھائیوں میں ساتواں تھا، اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، تو ہم میں سے ایک نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دیں۔