❮
❯
حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ كِنْدَةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ وَلَدٍ؟» قَالَ: لَا، إِلَّا مَوْلُودٌ وُلِدَ لِي مَخْرَجِي إِلَيْكَ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّ لِي مَكَانَهُ شَبِعَ الْقَوْمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُلْ ذَاكَ، فَإِنَّ فِيهِمْ قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَأَجْرًا إِذَا قُبِضُوا، وَلَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ، فَإِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ، وَمَحْزَنَةٌ، وَمَبْخَلَةٌ»
ترجمہ

سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کندہ کے وفد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے ایک بچے کے جو میرے آپ کے پاس آنے کے وقت پیدا ہوا، اور میری خواہش ہے کہ اس کی جگہ قوم سیر ہو جاتی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ بات مت کہو، کیونکہ ان (بچوں) میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور جب وہ فوت ہو جائیں تو اجر ہے، اور اگر تم نے یہ بات کہی ہے تو (یہ بھی درست ہے کہ) وہ بزدلی، غم اور بخل کا سبب بنتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 642
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 236، حدیث 646