حدیث نمبر: 6358
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا سَالِمٌ أَبُو جُمَيْعٍ، ثنا رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَوْتُ بِرَاحِلَتِي، فَقُلْتُ: لَآتِيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ , فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ قَاعِدًا مُحْتَبِيًا فِي بُرْدَةٍ، فَسَمِعْتُهُ يَرُدُّ عَلَى السَّائِلِ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا , وَلَوْ أَنْ تَصُبَّ مِنْ فَضْلِ دَلْوِكِ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ، أَوْ قَالَ مَا لَيْسَ فِيكَ , فَلَا تَشْتُمْهُ , وَلَا تَقُلْ لَهُ مَا لَيْسَ فِيهِ، فَيَكُونَ لَكَ أَجْرُهُ، وَعَلَيْهِ وَبَالُهُ، لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا» فَمَا سَبَبْتُ شَيْئًا , بَعِيرًا وَلَا شَاةً وَلَا إِنْسَانًا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّبِّ
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی سواری منگوائی اور کہا: میں ضرور اس شخص کے پاس جاؤں گا اور اس سے سنوں گا، تو میں ان کے پاس آیا اور انہیں ایک چادر میں گھٹنے موڑے بیٹھا پایا، میں نے سنا کہ وہ ایک سوال کرنے والے کو جواب دے رہے تھے: ”کسی نیکی کو ہرگز حقیر نہ سمجھو، خواہ یہ کہ تم اپنے ڈول کا بچا ہوا پانی مانگنے والے کے برتن میں ڈال دو، اور تہبند لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ تکبر میں سے ہے، اور اللہ تکبر کو پسند نہیں فرماتا، اور اگر کوئی شخص تمہیں گالی دے، یا تمہارے بارے میں کوئی ایسی بات کہے جو تم میں نہیں ہے، تو تم اسے گالی نہ دو، اور نہ اس کے بارے میں ایسی بات کہو جو اس میں نہیں ہے، تاکہ اس کا اجر تمہیں ملے اور اس کا وبال اسی پر پڑے، کسی کو ہرگز گالی نہ دو۔“ راوی کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے سے منع کرتے سنا، میں نے کسی چیز کو گالی نہیں دی، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو اور نہ کسی انسان کو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6358
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 65، حدیث 6388