المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمة بن نفيل السكوني , ثم التراغمي باب: سیدنا سلمہ بن نفیل سکونی، پھر تراغمی، رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ يَحْيَى الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَاسِينُ الزَّيَّاتُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ، قَالَ: جَاءَ شَابٌّ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَدَعْ سَيِّئَةً إِلَّا عَمِلَهَا , وَلَا خَطِيئَةً إِلَّا رَكِبَهَا، وَلَا أَشْرَفَ لَهُ سَهْمٌ فَمَا فَوْقَهُ إِلَّا اقْتَطَعَهُ بِيَمِينِهِ، وَمَنْ لَوْ قُسِّمَتْ خَطَايَاهُ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَغَمَرَتْهُمْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمْتَ؟» أَوْ: «أَنْتَ مُسْلِمٌ؟» قَالَ: أَمَّا أَنَا , فَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، قَالَ: «اذْهَبْ , فَقَدْ بَدَّلَ اللهُ سَيِّئَاتِكَ حَسَنَاتٍ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَغَدَرَاتِي وَفَجَرَاتِي؟ قَالَ: «وَغَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ» ثَلَاثًا فَوَلَّى الشَّابُّ، وَهُوَ يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُكَبِّرُ، حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، أَوْ خَفِيَ عَنِّيسیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جو کسی بھی تیر یا اس سے اونچی چیز کو اپنے دائیں ہاتھ سے اچک لیتا تھا، اور جس کے گناہ اگر اہلِ مدینہ پر تقسیم کر دیے جائیں تو وہ انہیں ڈبو دیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم اسلام لائے؟“ یا فرمایا: ”کیا تم مسلمان ہو؟“ اس نے کہا: میں تو گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، اللہ نے تمہاری برائیاں نیکیوں میں بدل دی ہیں۔“ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور میری بدعہدیاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری بدعہدیاں اور بدکاریاں بھی“ — تین بار فرمایا — تو وہ نوجوان یہ کہتا ہوا پلٹا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، میں اسے تکبیر کہتے سنتا رہا یہاں تک کہ وہ مجھ سے اوجھل ہو گیا۔