المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمة بن هشام بن المغيرة المخزومي باب: سیدنا سلمہ بن ہشام بن مغیرہ مخزومی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: فَرَّ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَسَلَمَةُ بْنُ هِشَامٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَيَّاشٌ وَسَلَمَةُ مُتَكَفِّلَانِ مُرْتَدِفَانِ عَلَى بَعِيرٍ، وَالْوَلِيدُ يَسُوقُ بِهِمَا، فَكَلِمَتْ إِصْبَعُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ:
[البحر الرجز]
هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دُمِيتِ ... وَفِي سَبِيلِ اللهِ مَا لَقِيتِ
فَعَلِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَخْرَجِهِمْ إِلَيْهِ وَشَأْنِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَعْلَمَ النَّاسُ، فَصَلَّى الصُّبْحَ، فَرَكَعَ أَوَّلَ رَكْعَةٍ مِنْهُمَا، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ دَعَا لَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، فَقَالَ: «اللهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ، اللهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِيِّ يُوسُفَ»عبدالملک بن ابی بکر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ، سیدنا سلمہ بن ہشام اور سیدنا ولید بن ولید بن مغیرہ رضی اللہ عنہم مشرکین سے بھاگ کر نبی کریم ﷺ کی طرف نکلے، عیاش اور سلمہ ایک اونٹ پر آگے پیچھے سوار تھے اور ولید انہیں ہانک رہے تھے، ولید کی انگلی زخمی ہو گئی تو انہوں نے (رجز میں) کہا: ”تو تو بس ایک انگلی ہے جو خون آلود ہو گئی، اور جو تجھے پیش آیا وہ اللہ کی راہ میں ہے۔“ تو نبی کریم ﷺ کو لوگوں کے علم میں آنے سے پہلے ہی ان کے اپنی طرف نکلنے اور ان کے معاملے کا علم ہو گیا، تو آپ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی، ان دونوں رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں رکوع کیا، پھر جب سر اٹھایا تو سجدے سے پہلے ہی ان کے لیے دعا کی، فرمایا: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! ولید کو نجات دے، اے اللہ! کمزور مومنوں کو نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی گرفت سخت کر دے، اور ان پر ایسے سال مسلط کر جیسے یوسف علیہ السلام کے قحط کے سال تھے۔“