المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمان الفارسي يكنى أبا عبد الله رضي الله عنه " أسلم مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، وشغل بالرق، وفاته مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بدرا، وأحدا، وأول مشاهده الخندق، وقد قيل في بعض الروايات: إنه أسلم بمكة، وإسلامه بالمدينة أثبت، والله باب: سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، رسول اللہ ﷺ کی مدینہ آمد کے وقت اسلام لائے، غلامی میں مشغول رہنے کی وجہ سے بدر اور احد میں شریک نہ ہو سکے، ان کا پہلا غزوہ خندق تھا۔ بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ وہ مکہ میں مسلمان ہوئے، لیکن مدینہ میں اسلام لانا زیادہ ثابت شدہ قول ہے، واللہ (متن یہاں ناتمام ہے)
حدیث نمبر: 6032
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا الْهُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ الْفَزَارِيُّ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ مَوْلَايَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ فِي السُّوقِ، فَمَرَّ عَلَيْنَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ وَقَدِ اشْتَرَى وُسْقًا مِنْ طَعَامٍ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ تَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّ النَّفْسَ إِذَا أَحْرَزَتْ رِزْقَهَا اطْمَأَنَّتْ، وتَفَرَّغَتْ لِلْعِبَادَةِ، وَأَيِسَ مِنْهَا الْوَسْوَاسُ»ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں... سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے جبکہ انہوں نے ایک وسق اناج خرید رکھا تھا۔ زید نے ان سے کہا: اے ابوعبداللہ! آپ یہ کام کرتے ہیں حالانکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں؟ فرمایا: ”جب نفس اپنا رزق محفوظ کر لیتا ہے تو مطمئن ہو جاتا ہے اور عبادت کے لیے فارغ ہو جاتا ہے، اور وسوسہ اس سے مایوس ہو جاتا ہے۔“