المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سهيل بن عمرو بن عبد شمس بن عبد ود بن نصر بن مالك بن حسل بن عامر بن لؤي، يكنى أبا يزيد " توفي في الشام في طاعون عمواس سنة ثمان عشرة " باب: سیدنا سہیل بن عمرو بن عبدشمس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی رضی اللہ عنہ، کنیت ابویزید، شام میں طاعون عمواس میں سن 18 ہجری میں وفات پائی
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: اجْتَمَعَ أَشْرَافُ قُرَيْشٍ عِنْدَ بَابِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِيهِمُ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَتِلْكَ الْعَبِيدُ، وَالْمَوَالِي مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ إِذْنُهُ فَأَذِنَ لِبِلَالٍ، وَصُهَيْبٍ وَنَحْوِهِمَا، وَتَرَكَ الْآخَرِينَ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ، إِنَّهُ أَذِنَ لِهَذِهِ الْعَبِيدِ، وَتَرَكَنَا جُلُوسًا بِبَابِهِ لَا يَأْذَنُ لَنَا، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلًا عَاقِلًا: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي وَاللهِ لَقَدْ أَرَى الَّذِي فِي وُجُوهِكُمْ، فَإِنْ كُنْتُمْ غِضَابًا فاغْضَبُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، دُعِيَ الْقَوْمُ ودُعِيتُمْ فَأَسْرَعُوا وأَبْطَأْتُمْ، أَمْ وَاللهِ لَمَا سَبَقْتُمْ إِلَيْهِ مِنَ الْفَضْلِ أَشَدُّ عَلَيْكُمْ فَوْتًا مِنْ بابِكُمُ الَّذِي تَنَافَسْتُمْ عَلَيْهِ» ، قَالَ الْحَسَنُ: لَا يَجْعَلُ اللهُ عَبْدًا أَسْرَعَ إِلَيْهِ كَعَبْدٍ أَبْطَأَ عَنْهُحسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قریش کے سرداران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر جمع ہوئے، جن میں حارث بن ہشام، ابوسفیان بن حرب اور سہیل بن عمرو شامل تھے، اور وہاں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے غلام اور موالی بھی موجود تھے۔ اجازت آئی تو سیدنا بلال اور سیدنا صہیب رضی اللہ عنہما جیسوں کو اندر جانے کی اجازت مل گئی، اور باقی لوگوں کو چھوڑ دیا گیا۔ اس پر ابوسفیان نے کہا: میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا! اس نے ان غلاموں کو تو اجازت دے دی اور ہمیں اس کے دروازے پر بٹھائے رکھا، ہمیں اجازت نہیں دی۔ اس پر سہیل بن عمرو، جو ایک عقلمند آدمی تھے، نے کہا: ”اے لوگو! اللہ کی قسم! میں تمہارے چہروں پر جو کچھ ہے وہ دیکھ رہا ہوں۔ اگر تم غصے میں ہو تو اپنے آپ پر غصہ کرو، ان لوگوں کو بھی بلایا گیا اور تمہیں بھی بلایا گیا، انہوں نے جلدی کی اور تم نے تاخیر کی۔ اللہ کی قسم! جس فضیلت میں تم سے سبقت لے لی گئی اس کا ہاتھ سے نکل جانا تمہارے لیے اس دروازے (پر باریابی) سے کہیں زیادہ سخت ہے جس پر تم ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہو۔“ حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ اس بندے کو، جو اس کی طرف جلدی کرے، اس بندے جیسا نہیں بناتا جو تاخیر کرے۔