المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يعقوب بن عبد الرحمن الزهري أصله مدني نزل الإسكندرية، عن أبي حازم باب: یعقوب بن عبدالرحمن زہری، اصلاً مدنی جو اسکندریہ میں رہائش اختیار کر گئے، کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَسَارٍ النَّسَائِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ وعُودِهِ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللهِ إِنِّي أَعْرِفُ مَا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ - امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ - أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ، فَأُكَلِّمُ النَّاسَ» ، فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهُ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَتْ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِهِ، فَوُضِعَ هَهُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهِ، ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهِ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى، فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَلَا، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي»سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے منبر اور اس کی لکڑی کے بارے میں اختلاف کیا تو انہوں نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے یہ بات پوچھی۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ وہ کس چیز کا بنا ہے، اور میں نے وہ دن دیکھا جب یہ رکھا گیا، اور وہ دن بھی دیکھا جب رسول اللہ ﷺ پہلی بار اس پر بیٹھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فلاں عورت - سہل رضی اللہ عنہ نے اس کا نام لیا - کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ میرے لیے چند تختے بنا دے جن پر بیٹھ کر میں لوگوں سے بات کروں۔ اس نے اپنے غلام کو حکم دیا تو اس نے جنگل کی جھاؤ کی لکڑی سے یہ منبر بنایا، پھر اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو اس عورت نے اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیج دیا۔ آپ ﷺ نے حکم دیا تو وہ یہاں رکھ دیا گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر تکبیر کہی، پھر اسی پر رکوع کیا، پھر پیچھے کی طرف اترے اور منبر کے پائے کے پاس سجدہ کیا، پھر واپس چڑھ گئے۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا کہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔“