حدیث نمبر: 5971
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْتُ لِأَهَبَ لَكَ نَفْسِي، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَيْ رَسُولَ اللهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ فِيهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، قَالَ: «أَلَكَ شَيْءٌ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟» قَالَ: سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، قَالَ: «فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... پھر آپ ﷺ نے اپنا سر جھکا لیا۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی۔ اس پر آپ کے صحابہ میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں قرآن میں سے کیا یاد ہے؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں سورت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے اس کا نکاح تم سے کر دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5971
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 199، حدیث 5993