حدیث نمبر: 5969
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللهُ عَلَيْهِ» ، وَكَانَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، يَشْتَكِي عَيْنَهُ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ، فَبَصَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنِهِ، وَدَعَا لَهُ، فَبَرَأَ، حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟ قَالَ: «انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ، حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللهِ، لَأَنْ يَهْدِيَ بِكَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا: ”میں کل یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔“ لوگ آپس میں یہی بات کرتے رہے کہ یہ کسے دیا جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ان کی آنکھ دکھتی ہے۔ صحابہ نے انہیں بلوایا تو انہیں لایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھ میں اپنا لعاب دہن لگایا اور ان کے لیے دعا کی تو وہ ٹھیک ہو گئی، گویا انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ آپ ﷺ نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ان سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ ہم جیسے نہ ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اطمینان سے آگے بڑھو یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں اتر جاؤ، پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ کا کون سا حق ان پر واجب ہوگا۔ اگر اللہ تمہاری وجہ سے کسی کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5969
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 198، حدیث 5991