حدیث نمبر: 5968
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةُ دَنَانِيرَ وَضَعَهَا عِنْدَ عَائِشَةَ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ مَرَضِهِ، قَالَ: «يَا عَائِشَةُ اذْهَبِي بِالذَّهَبِ إِلَى عَلِيٍّ» ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، وَشَغَلَ عَائِشَةَ مَا بِهِ، حَتَّى قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا، كُلَّ ذَلِكَ يُغْمَى عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ويَشْغَلُ عَائِشَةَ مَا بِهِ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَتَصَدَّقَ بِهَا، وَأَمْسَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الِاثْنَيْنِ فِي جَدِيدِ الْمَوْتِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ بِمِصْباحٍ لَهَا إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا، فَقَالَتْ: اهْدِي لَنَا فِي مِصْباحِنَا مِنْ عُكَكِ السَّمْنِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسَى فِي جَدِيدِ الْمَوْتِ
ترجمہ

اسی سند سے مروی ہے: رسول اللہ ﷺ کے پاس سات دینار تھے جو آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رکھے ہوئے تھے۔ جب آپ ﷺ کی بیماری کا وقت آیا تو فرمایا: ”عائشہ! یہ سونا علی کے پاس لے جاؤ۔“ پھر آپ پر غشی طاری ہو گئی، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کی حالت کی وجہ سے مصروف ہو گئیں۔ آپ ﷺ نے یہ بات کئی بار دہرائی، ہر بار آپ پر غشی طاری ہوتی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کی حالت کی وجہ سے مصروف ہو جاتیں۔ آخرکار انہوں نے وہ دینار سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیے تو انہوں نے وہ صدقہ کر دیے۔ رسول اللہ ﷺ پیر کی رات کو موت کے قریب پہنچے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے چراغ کو اپنی سوکنوں میں سے ایک عورت کے پاس بھیجا اور کہلوایا: ہمارے چراغ میں کچھ گھی کے ڈھیلے دے دو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ شام کو موت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5968
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 198، حدیث 5990