❮
❯
حدیث نمبر: 589
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَوْسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي قُبَّةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَأَخَذَ بِشَيْءٍ مِنَ الْقُبَّةِ، فَأَتَاهُ بِشَيْءٍ مِنَ الْقُبَّةِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا يُدْرَى مَا يَقُولُ، فَقَالَ: " اذْهَبْ، فَقُلْ لَهُمْ: يَقْتُلُوهُ " ثُمَّ قَالَ: «لَعَلَّهُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبْ فَقُلْ لَهُمْ: يُرْسِلُوهُ، فَإِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوهَا حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَائُهُمْ، وَأَمْوَالُهُمْ، إِلَّا بِأَمْرٍ حَقٍّ، وَكَانَ حِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ "
ترجمہ

سیدنا اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مدینہ کی مسجد میں ایک خیمے میں تھے، تو آپ ﷺ نے خیمے کے کسی حصے کو پکڑ لیا، پھر ایک شخص آیا اور اس سے کانوں میں کچھ کہا جو معلوم نہ ہو سکا کہ کیا کہہ رہا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور ان سے کہو کہ اسے قتل کر دیں۔“ پھر فرمایا: ”شاید وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہو؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور ان سے کہو کہ اسے چھوڑ دیں، کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہیں، پھر جب وہ یہ کہہ دیں تو ان کا خون اور مال مجھ پر حرام ہو جاتا ہے سوائے کسی حق معاملے کے، اور ان کا حساب اللہ عزوجل پر ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 589
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 218، حدیث 593