حدیث نمبر: 588
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ أَوْسٍ الثَّقَفِيَّ يَقُولُ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، قَالَ: وَكُنْتُ فِي أَسْفَلِ الْقِبْلَةِ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ» ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ؟» ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: " إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوا، حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ، وَأَمْوَالُهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا "
ترجمہ

…وہ کہتے ہیں: میں قبلے کی سمت نیچے کی طرف تھا، وہاں نبی کریم ﷺ کے سوا کوئی نہیں تھا جو سوئے ہوئے تھے، اتنے میں ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور کانوں میں کچھ کہا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے قتل کر دو۔“ پھر فرمایا: ”کیا وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی نہیں دیتا اور محمد کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی نہیں دیتا؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہیں، پھر جب وہ یہ کہہ دیں تو ان کا خون اور مال مجھ پر حرام ہو جاتا ہے سوائے اس کے حق کے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 588
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 217، حدیث 592