المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
هشام بن سعد عن أبي حازم باب: ہشام بن سعد کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي جِئْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي، فَصَعَّدَ فِيهَا النَّظَرَ وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ سَكَتَ، فَقَامَ رَجُلٌ مَا عَلَيْهِ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ، عَاقِدٌ طَرَفَيْهِ عَلَى عُنُقَهِ، فَقَالَ: إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ لَهُ: «أَعِنْدَكَ شَيْءٌ؟» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَلَا بُدَّ لَهَا مِنْ شَيْءٍ، فَاذْهَبْ فَالْتَمِسْ» ، فَذَهَبَ فَالْتَمَسَ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَرَجَعَ فَقَالَ: لَمْ أَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» ، فَذَهَبَ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ لَمْ أَجِدْهُ، ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟» ، فَقَالَ: سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، فَقَالَ: «قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»…آپ ﷺ نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا، پھر خاموش رہے۔ اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا جس کے پاس صرف ایک کپڑا تھا، جسے اس نے اپنی گردن پر باندھ رکھا تھا، اس نے عرض کیا: اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو مجھ سے اس کا نکاح کروا دیجیے۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کچھ نہ کچھ تو دینا ہی ہوگا، جاؤ تلاش کرو۔“ وہ گیا اور تلاش کیا مگر کچھ نہ ملا، تو واپس آ کر کہا: مجھے کچھ نہیں ملا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔“ وہ گیا، پھر واپس آ کر کہا: لوہے کی انگوٹھی بھی مجھے نہ ملی۔ پھر وہ بیٹھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہیں قرآن میں سے کیا یاد ہے؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں سورت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہارا نکاح اسی قرآن کے عوض کر دیا جو تمہیں یاد ہے۔“