حدیث نمبر: 5583
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهْ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ صِفِّينَ: أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَاهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ، وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ، وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: «بَلَى» قَالَ: فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ قَالَ: «يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنِّي رَسُولُ اللهِ، وَلَنْ يُضَيِّعَنِي أَبَدًا» ، فَرَجَعَ وَهُوَ مَغِيظٌ، وَلَمْ يَصْبِرْ حَتَّى أَتَى أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ: أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ، وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، فَنَرْجِعُ، وَلَمَّا يَحْكُمِ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ، وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللهُ أَبَدًا، فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفْتَحٌ هُوَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ترجمہ

…اور میں نے خود کو حدیبیہ کے دن دیکھا، اگر ہم جنگ کا کوئی موقع دیکھتے تو ضرور ان سے لڑتے۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر نہیں اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: تو پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں یہ کمتری کیوں قبول کریں اور اللہ کے ہم میں اور ان میں فیصلہ کیے بغیر ہی واپس کیوں چلے جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں، اور اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں واپس آئے، اور صبر نہ کر سکے یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: کیا ہم حق پر نہیں اور وہ باطل پر نہیں؟ کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں جائیں گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں یہ کمتری کیوں قبول کریں اور واپس کیوں چلے جائیں جبکہ اللہ نے ابھی ہم میں اور ان میں فیصلہ نہیں کیا؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن خطاب! بے شک وہ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ پھر سورۂ فتح نازل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا اور انہیں یہ سورت پڑھ کر سنائی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5583
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 90، حدیث 5604