المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه باب: ابواُمامہ بن سہل بن حنیف کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْأَخْمِيمِيُّ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَنْبَسَةُ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ عَتِيقِ بْنِ عَائِذٍ الْمَخْزُومِيِّ، ثُمَّ تَزَوَّجَ بِمَكَّةَ عَائِشَةَ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا، ثُمَّ تَزَوَّجَ بِالْمَدِينَةِ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ، ثُمَّ تَزَوَّجَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ السَّكَنِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدِ خُزَيْمَةَ، ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، وَكَانَ اسْمَهَا هِنْدٌ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، ثُمَّ تَزَوَّجَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةِ، ثُمَّ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، وَسَبَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، مِنْ خُزَاعَةَ، فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي هَدَمَ فِيهَا مَنَاةَ غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ، وَسَبَى صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ، وَكَانَتَا مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِ، فَقَسَمَ لَهُمَا، وَاسْتَسَرَ رَيْحَانَةَ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا، فَلَحِقَتْ بِأَهْلِهَا، وَاحْتَجَبَتْ وَهِيَ عِنْدَ أَهْلِهَا، وَطَلَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَالِيَةَ بِنْتَ ظَبْيَانَ، وَفَارَقَ أُخْتَ بَنِي عَمْرِو بْنِ كِلَابٍ، وَفَارَقَ أُخْتَ بَنِي الْجَوْنِ الْكِنْدِيَّةَ، مِنْ أَجْلِ بَيَاضٍ كَانَ بِهَا، وَتُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ خُزَيْمَةَ الْهِلَالِيَّةُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ، وَبَلَغَنَا أَنَّ الْعَالِيَةَ بِنْتَ ظَبْيَانَ تَزَوَّجَتْ قَبْلَ أَنْ يُحَرِّمَ اللهُ نِسَاءَهُ، فَنَكَحَتِ ابْنَ عَمٍّ لَهَا مِنْ قَوْمِهَا، وَوَلَدَتْ فِيهِمْ»سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، ان سے پہلے وہ عتیق بن عائذ مخزومی کے نکاح میں تھیں۔ پھر آپ ﷺ نے مکہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، آپ ﷺ نے ان کے سوا کسی کنواری سے نکاح نہیں کیا۔ پھر آپ ﷺ نے مدینہ میں سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، ان سے پہلے وہ خنیس بن حذافہ سہمی کے نکاح میں تھیں۔ پھر آپ ﷺ نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، ان سے پہلے وہ سکن بن عمرو، بنو عامر بن لؤی کے بھائی، کے نکاح میں تھیں۔ پھر آپ ﷺ نے سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، ان سے پہلے وہ عبیداللہ بن جحش اسدی (بنو اسد بن خزیمہ سے) کے نکاح میں تھیں۔ پھر آپ ﷺ نے سیدہ ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، ان کا نام ہند تھا، ان سے پہلے وہ ابوسلمہ بن عبدالاسد بن عبدالعزیٰ کے نکاح میں تھیں۔ پھر آپ ﷺ نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، ان سے پہلے وہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ پھر آپ ﷺ نے سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ اور آپ ﷺ نے بنو مصطلق (خزاعہ کے قبیلے) کی سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار رضی اللہ عنہا کو اس غزوے میں قیدی بنایا جس میں آپ ﷺ نے بت مناۃ کو گرایا، یعنی غزوۂ مریسیع۔ اور بنو نضیر کی سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کو بھی قیدی بنایا، یہ دونوں ان قیدیوں میں سے تھیں جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور فَے عطا کی تھیں، آپ ﷺ نے ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا۔ اور آپ ﷺ نے بنو قریظہ کی سیدہ ریحانہ رضی اللہ عنہا کو لونڈی بنایا، پھر انہیں آزاد کر دیا، تو وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی گئیں اور اپنے گھر والوں کے ہاں پردہ کرتی رہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے عالیہ بنت ظبیان کو طلاق دی، اور بنو عمرو بن کلاب کی ایک عورت کو الگ کیا، اور بنو جون کندیہ کی ایک عورت کو بھی، ان میں جو سفیدی (کوئی جِلدی بیماری) تھی اس کی وجہ سے۔ اور سیدہ زینب بنت خزیمہ ہلالیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہی وفات پا گئیں۔ اور ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ عالیہ بنت ظبیان نے، اللہ کے آپ ﷺ کی ازواج کو حرام قرار دینے سے پہلے، نکاح کر لیا تھا، انہوں نے اپنی قوم کے ایک چچازاد بھائی سے نکاح کیا اور ان میں اولاد بھی پیدا ہوئی۔