المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه باب: ابواُمامہ بن سہل بن حنیف کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ فُقَرَاءَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَيَشْهَدُ جَنَائِزَهُمْ إِذَا مَاتُوا، فَتُوُفِّيَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَضَرَتْ فَآذِنُونِي» فَأَتَوْهُ لِيُئْذِنُوهُ، فَوَجَدُوهُ نَائِمًا، وَقَدْ ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ، فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ، وتَخَوَّفُوا عَلَيْهِ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ، وهَوَامَّ الْأَرْضِ، فَذَهَبُوا بِهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَيْنَاكَ لِنُؤْذِنَكَ، فَوَجَدْنَاكَ نَائِمًا، فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، وتَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وهَوَامَّ الْأَرْضِ، فَذَهَبُوا، فَمَشَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عُثْمَانَ…راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مدینہ کے غریب لوگوں کی عیادت کیا کرتے اور ان کے مرنے پر ان کے جنازوں میں شریک ہوتے تھے۔ عوالی کی ایک عورت فوت ہو گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ تیار ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ چنانچہ وہ لوگ آپ ﷺ کو اطلاع دینے آئے تو آپ ﷺ کو سویا ہوا پایا، اور رات کا کافی حصہ گزر چکا تھا، تو انہوں نے آپ ﷺ کو جگانا مناسب نہ سمجھا اور رات کی تاریکی اور زمین کے کیڑے مکوڑوں کا خطرہ محسوس کیا، چنانچہ وہ اسے لے گئے اور دفن کر دیا۔ جب آپ ﷺ صبح بیدار ہوئے تو اس کے بارے میں پوچھا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کو اطلاع دینے آئے تھے، مگر آپ کو سویا ہوا پایا تو ہم نے آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، اور ہمیں رات کی تاریکی اور زمین کے کیڑوں کا خطرہ تھا، اس لیے ہم چلے گئے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ پیدل چل کر اس کی قبر پر گئے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھی، اور چار تکبیریں کہیں - اور یہ الفاظ عثمان کی روایت کے ہیں۔