حدیث نمبر: 5563
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ وَبِهِ وَجَعٌ يُقَالُ لَهُ: الشَّوْكَةُ، فَكَوَاهُ عَلَى عَاتِقِهِ، فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِئْسَ الْمَيِّتُ لِلْيَهُودِ، يَقُولُونَ: قَدْ دَاوَاهُ صَاحِبَهُ أَفَلَا نَفَعَهُ "
ترجمہ

ابوامامہ بن سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہیں ایک بیماری تھی جسے ”شوکہ“ (کانٹا لگنے کی تکلیف) کہا جاتا تھا، آپ ﷺ نے ان کے کندھے پر داغ لگایا، پھر وہ فوت ہو گئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہودیوں کے لیے (یہ) بری موت ہے، وہ کہیں گے: ان کے ساتھی نے ان کا علاج کیا تو کیا اسے کوئی فائدہ نہ ہوا؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5563
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 83، حدیث 5584