المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه باب: ابواُمامہ بن سہل بن حنیف کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأُبُلِّيُّ، ثنا سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ، عَنْ عَقِيلٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ فِي الْخَرَّارِ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ، وَلَا جَلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَلُبِطَ بِهِ سَهْلٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، فَوَاللهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَتَّهِمُونَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ؟» ، قَالُوا: نَعَمْ، مَرَّ عَلَيْهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَهُوَ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ وَلَا جَلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ لَهُ: «عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ وَلَا يُبَرِّكُ اغْتَسِلْ لَهُ» ، فَغَسَلَ عَامِرٌ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ الرَّكْبِ…اور نہ کسی پردہ نشین کی جِلد۔ تو سہل رضی اللہ عنہ گر پڑے، رسول اللہ ﷺ کو بلایا گیا، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا آپ سہل بن حنیف کے پاس تشریف لے چلیں گے، اللہ کی قسم! وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھا پا رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں کسی پر شبہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، عامر بن ربیعہ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ غسل کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج جیسا کبھی نہیں دیکھا، اور نہ کسی پردہ نشین کی جِلد۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے عامر کو بلایا اور ان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں مار ڈالتا ہے؟ برکت کی دعا نہیں کرتے، اس کے لیے غسل کرو۔“ چنانچہ عامر رضی اللہ عنہ نے غسل کیا، تو سہل رضی اللہ عنہ قافلے کے ساتھ روانہ ہو گئے۔