❮
❯
حدیث نمبر: 5559
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ: سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: اغْتَسَلَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ بِالْخَرَّارِ، فَنَزَعَ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ، وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ يَنْظُرُ، قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ، فَقَالَ لَهُ عَامِرٌ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ، وَلَا جَلْدَ عَذْرَاءَ، فَوُعِكَ سَهْلٌ مَكَانَهُ، وَاشْتَدَّ وَعْكُهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْبِرَ أَنَّ سَهْلًا قَدْ وُعِكَ، وَأَنَّهُ غَيْرُ رَائِحٍ مَعَكَ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ سَهْلٌ الَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِ عَامِرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ أَلَا بَرَّكْتَ، إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ تَوَضَّأْ لَهُ» ، فَتَوَضَّأَ لَهُ عَامِرٌ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ
ترجمہ

محمد بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف کہتے ہیں: انہوں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا: سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے خرار میں غسل کیا اور اپنا جبہ اتارا جبکہ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ دیکھ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: سہل رضی اللہ عنہ سفید رنگت اور خوبصورت جِلد والے آدمی تھے۔ عامر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں نے آج جیسا کچھ نہیں دیکھا، اور نہ ہی کسی کنواری کی سی جِلد۔ تو سہل رضی اللہ عنہ وہیں بخار میں مبتلا ہو گئے اور ان کا بخار شدید ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر خبر دی گئی کہ سہل رضی اللہ عنہ کو بخار چڑھ گیا ہے اور وہ آپ کے ساتھ نہیں جا سکیں گے، تو رسول اللہ ﷺ خود ان کے پاس تشریف لائے، سہل رضی اللہ عنہ نے آپ کو عامر کا واقعہ بتایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں مار ڈالتا ہے؟ تم نے برکت کی دعا کیوں نہ کی؟ نظرِ بد حق ہے، اس کے لیے وضو کرو۔“ چنانچہ عامر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے وضو کیا، تو سہل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہو گئے اور انہیں کوئی تکلیف نہ رہی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5559
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 82، حدیث 5580