❮
❯
حدیث نمبر: 5557
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ فَلُبِطَ بِهِ، حَتَّى مَا يُصَلِّي مِنْ شِدَّةِ الْوَجَعِ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: «قَتَلْتَهُ، عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ أَلَا بَرَّكْتَ» ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: «اغْسِلُوهُ» ، فَاغْتَسَلَ، فَخَرَجَ مَعَ الرَّكْبِ
ترجمہ

ابوامامہ بن سہل بن حنیف، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ غسل کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: میں نے (آج جیسا حسن) کبھی نہیں دیکھا، اور نہ کسی پردہ نشین کی جِلد۔ چنانچہ وہ گر پڑے، یہاں تک کہ وہ شدتِ درد سے نماز بھی نہیں پڑھ پا رہے تھے، یہ بات نبی کریم ﷺ کو بتائی گئی، تو آپ ﷺ نے اسے (عامر رضی اللہ عنہ کو) بلایا اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”تم نے اسے مار ڈالا! تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں مار ڈالتا ہے؟ تم نے برکت کی دعا کیوں نہ کی؟“ پھر نبی کریم ﷺ نے پانی کا ایک بڑا ڈول منگوایا اور فرمایا: ”اسے (اس پانی سے) غسل دو۔“ چنانچہ اسے غسل دیا گیا، تو وہ (سہل رضی اللہ عنہ) قافلے کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5557
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 81، حدیث 5578