❮
❯
حدیث نمبر: 5556
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيَّ مَرَّ عَلَى سَهْلٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ فِي الْخَرَّارِ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَلُبِطَ سَهْلٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَاللهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَتَّهِمُونَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ؟» ، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، مَرَّ عَلَيْهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ وَقَالَ: «عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ إِنْ لَا تُبَرِّكِ اغْسِلْ لَهُ» ، فَغَسَلَ لَهُ عَامِرٌ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ الرَّكْبِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «الْغُسْلُ الَّذِي أَدْرَكْنَا عُلَمَاءَنَا يَصْنَعُونَ، أَنْ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ بِالَّذِي يُعِينُ صَاحِبَهُ بَالقَدَحِ فِيهِ الْمَاءُ وَيُمْسِكُ لَهُ مَرْفُوعًا مِنَ الْأَرْضِ، فَيُدْخِلَ الَّذِي يُعِينُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْمَاءِ، فَيُصَبُّ عَلَى وَجْهِهِ صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ الْيُسْرَى فِي الْمَاءِ، فَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى صَبَّةً وَاحِدَةً إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَيْهِ جَمِيعًا فِي الْمَاءِ فَيَغْسِلُ صَدْرَهُ صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَغْرِفُ مِنَ الْمَاءِ فَيَصُبُّهُ عَلَى ظَهْرِ كَفَّهِ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيُصَبُّ عَلَى مِرْفَقِ يَدِهِ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، وَهُوَ فِي يَدِهِ إِلَى عُنُقَهِ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي مِرْفَقِ يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ظَهْرِ قَدَمِهِ الْيُمْنَى، مِنْ عِنْدِ أُصُولِ الْأَصَابِعِ وَالْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى، فَيُصَبُّ عَلَى ظَهْرِ رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَفْعَلُ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَغْمِسُ دَاخِلَةَ إِزَارَهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُومُ الَّذِي فِي يَدَهِ الْقَدَحُ بَالقَدَحِ، فَيَصُبُّهُ عَلَى ظَهْرِ رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُومُ الَّذِي فِي يَدَهِ الْقَدَحُ بَالقَدَحِ، فَيَصُبُّهُ عَلَى رَأْسِ الْمَعْيُونِ مِنْ وَرَائِهِ، ثُمَّ يَكْفَأُ الْقَدَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ وَرَائِهِ»
ترجمہ

ابوامامہ بن سہل بن حنیف انصاری بتاتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ عدوی رضی اللہ عنہ سہل (بن حنیف رضی اللہ عنہ) کے پاس سے گزرے جبکہ وہ خرار میں غسل کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج جیسا کچھ نہیں دیکھا، اور نہ ہی کسی پردہ نشین کی سی جِلد دیکھی۔ تو سہل رضی اللہ عنہ گر پڑے، رسول اللہ ﷺ کو بلایا گیا، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا آپ سہل بن حنیف کے پاس تشریف لے چلیں گے، اللہ کی قسم! وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھا پا رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں کسی پر شبہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ، عامر بن ربیعہ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ غسل کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج جیسا کبھی نہیں دیکھا، اور نہ ہی کسی پردہ نشین کی سی جِلد دیکھی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور ان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں مار ڈالتا ہے؟ اگر تم برکت کی دعا نہیں کرتے تو کم از کم اس کے لیے غسل تو کرو۔“ چنانچہ عامر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے غسل کیا، تو سہل رضی اللہ عنہ قافلے کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ ابن شہاب کہتے ہیں: ”وہ غسل جو ہم نے اپنے علما کو کرتے پایا، یہ ہے کہ جو آدمی اپنے ساتھی کو نظر لگاتا ہے اس کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا جاتا ہے اور اسے اس کے لیے زمین سے اوپر اٹھا کر پکڑے رکھا جاتا ہے۔ نظر لگانے والا اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک ہی بار اپنے چہرے پر پانی ڈالتا ہے (جو) پیالے میں (گرتا ہے)، پھر بایاں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک ہی بار پیالے میں اپنا دایاں ہاتھ دھوتا ہے، پھر دایاں ہاتھ ڈال کر ایک ہی بار اپنا بایاں ہاتھ کہنیوں تک دھوتا ہے، پھر دونوں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک ہی بار پیالے میں اپنا سینہ دھوتا ہے، پھر بایاں ہاتھ ڈال کر پانی نکالتا ہے اور ایک ہی بار پیالے میں اپنی دائیں ہتھیلی کی پشت پر ڈالتا ہے، پھر بایاں ہاتھ ڈال کر ایک ہی بار پیالے میں اپنے دائیں ہاتھ کی کہنی پر ڈالتا ہے - اور یہ پانی اس کے ہاتھ سے ہوتا ہوا اس کی گردن تک پہنچتا ہے - پھر اپنے بائیں ہاتھ کی کہنی کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتا ہے، پھر اپنے دائیں پاؤں کی پشت پر انگلیوں کی جڑوں سے ایسا ہی کرتا ہے، اور بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی، پھر بایاں ہاتھ ڈال کر اپنے دائیں گھٹنے کی پشت پر ڈالتا ہے، پھر بائیں گھٹنے کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتا ہے، پھر اپنے تہبند کا دایاں اندرونی کنارہ (پیالے میں) ڈبوتا ہے، پھر جس کے ہاتھ میں پیالہ ہوتا ہے وہ کھڑا ہو کر اسے دائیں گھٹنے کی پشت پر انڈیلتا ہے، پھر جس کے ہاتھ میں پیالہ ہوتا ہے وہ کھڑا ہو کر اسے نظر لگے ہوئے شخص کے سر پر پیچھے سے انڈیلتا ہے، پھر پیالے کو اس کے پیچھے سے زمین پر الٹا دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5556
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 80، حدیث 5577