حدیث نمبر: 5555
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ أَخَا بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ رَأَى سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرَّارِ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جَلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَلُبِطَ سَهْلٌ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لَكَ وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ لَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَتَّهِمُونَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ؟» ، قَالُوا: نَعَمْ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: «عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟، أَلَا بَرَّكْتَ؟، اغْتَسِلْ لَهُ» ، فَغَسَلَ لَهُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ الرَّكْبِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ
ترجمہ

…تو سہل رضی اللہ عنہ گر پڑے، انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا آپ سہل بن حنیف کے پاس تشریف لے چلیں گے، وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھا پا رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں کسی پر شبہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، عامر بن ربیعہ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ غسل کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج جیسا کچھ نہیں دیکھا، اور نہ ہی کسی پردہ نشین کی سی جِلد دیکھی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور ان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں مار ڈالتا ہے؟ تم نے برکت کی دعا کیوں نہ کی؟ اب اس کے لیے غسل کرو۔“ چنانچہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے غسل کیا، تو سہل رضی اللہ عنہ قافلے کے ساتھ روانہ ہو گئے اور انہیں کوئی تکلیف نہ رہی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5555
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 80، حدیث 5576