حدیث نمبر: 5546
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتْوَيْهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ، قَالَا: ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِكَبَائِسَ مِنْ هَذَا السَّخْلِ، فَوَضَعَهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ جَاءَ بِهَذَا؟» ، فَكَانَ لَا يَجِيءُ أَحَدٌ إِلَّا صَبَّ الَّذِي جَاءَ بِهِ، فَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} [البقرة: ٢٦٧] ، وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْجُعْرُورِ، وَلَوْنِ ابْنِ الْحُبَيْقِ، أَنْ يُؤْخَذَ فِي الصَّدَقَةِ " قَالَ الزُّهْرِيُّ: «صِنْفَانِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ» ، وَقَالَ عَبَّادٌ، قَالَ سُفْيَانُ: «السَّخْلُ الشِّيصُ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ (نکالنے) کا حکم دیا، تو ایک آدمی اسی گھٹیا کھجور کے خوشے لے کر آیا اور وہاں رکھ دیے، رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ کون لایا ہے؟“ پھر جو بھی (گھٹیا کھجور) لاتا اسے (وہاں سے) پھینک دیا جاتا، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور جو کچھ ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے اس میں سے خرچ کرو، اور اس کی ردی چیز صدقہ کرنے کا ارادہ نہ کرو“ [سورۃ البقرہ: 267]، اور آپ ﷺ نے اسی دن جُعرور اور لونِ ابن حُبیق کو صدقے میں لینے سے منع فرمایا۔ زہری کہتے ہیں: ”یہ مدینہ کی کھجور کی دو قسمیں ہیں۔“ اور عباد کہتے ہیں کہ سفیان نے کہا: ”السَّخْل، شِیص (خراب و ناقص کھجور) کو کہتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5546
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 76، حدیث 5567