المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه باب: ابواُمامہ بن سہل بن حنیف کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 5545
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سَوْرَةَ الْبَغْدَادِيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لَوْنَيْنِ مِنَ التَّمْرِ، الْجُعْرُورِ، وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ» ، قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ يَتَيَمَّمُونَ شِرَارَ ثِمَارِهِمْ، فَيُخْرِجُونَهَا فِي صَدَقَاتِهِمْ، فَنَزَلَتْ: {وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} [البقرة: ٢٦٧]ترجمہ
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کھجور کی دو قسموں سے منع فرمایا: جُعرور اور لونِ حُبیق (نامی گھٹیا کھجوریں)۔ راوی کہتے ہیں: لوگ جان بوجھ کر اپنے پھلوں میں سے سب سے ردی پھل چن کر صدقے میں نکالا کرتے تھے، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اس کی ردی چیز صدقہ کرنے کا ارادہ نہ کرو“ [سورۃ البقرہ: 267]۔