المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند سعيد بن العاص باب: سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 5495
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ، لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَقَضَى أَبُو بَكْرٍ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، ثُمَّ قَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ لَمْ تَفْزَعْ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ فَقَالَ: «إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ لَوْ أَذِنْتُ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَا يُلْقِيَ إِلَيَّ حَاجَتَهُ»ترجمہ
…پھر انہوں نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے، پھر میں نے اپنی ضرورت پوری کی، پھر واپس چلا گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو کیا ہوا کہ آپ ابوبکر اور عمر کے لیے اتنے محتاط نہ ہوئے جتنے عثمان کے لیے ہوئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عثمان حیا دار آدمی ہے، اور مجھے خدشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے اس حالت میں اجازت دی تو وہ اپنی بات مجھ تک نہیں پہنچا سکے گا۔“