المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند سعيد بن العاص باب: سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ، لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَهُوَ كَذَلِكَ، ثُمَّ قَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ قَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَجَلَسَ فَجَمَعَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ لَمْ تَفْزَعْ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُثْمَانُ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَخَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ وَأَنَا عَلَى حَالَتِي تِلْكَ أَنْ لَا يَبْلُغَ فِي حَاجَتَهِ»یحییٰ بن سعید بن العاص بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے ملاقات کی اجازت مانگی، جبکہ آپ ﷺ اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے اسی حالت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی، پھر انہوں نے اپنی ضرورت پوری کی اور واپس چلے گئے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے اسی حالت میں انہیں بھی اجازت دے دی، پھر انہوں نے اپنی ضرورت پوری کی اور واپس چلے گئے۔ عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے اجازت مانگی تو آپ ﷺ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے سمیٹ لیے، پھر میں نے اپنی ضرورت پوری کی، پھر واپس چلا گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو کیا ہوا کہ آپ ابوبکر اور عمر کے لیے اتنے محتاط نہ ہوئے جتنے عثمان کے لیے ہوئے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عثمان حیا دار آدمی ہے، اور مجھے خدشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے اس حالت میں اجازت دی تو وہ اپنی ضرورت پوری بیان نہیں کر سکے گا۔“